Urdu Najoom Kiya Hai Aur Kiya Nahi

//Urdu Najoom Kiya Hai Aur Kiya Nahi
Urdu Najoom Kiya Hai Aur Kiya Nahi 2018-01-10T03:16:08+00:00

نجوم کیا ہے اور کیا نہیں؟

نجوم کیا ہے؟
نجوم، فلکی اثرات جاننےکاایک قدیم علم اور فن ہے۔ یہ صرف پیش گوئی (پریڈکشن) کا نام نہیں۔ پیش گوئی، علم نجوم کا ایک حصہ ہے، لیکن اس کا مترادف نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس علم سے متعلق بہت کم آگہی پائی جاتی ہے۔ عام طور پر آسٹرولوجر کو لوگوں کی قسمت بدلنے والا کردار تصور کیا جاتا ہے۔ جو حقیقت کے بالکل برخلاف بات ہے۔ نیز یہ کہ آسٹرولوجی کا مقصد عوام کو ہولناک مستقبل سے ڈرانا، پتھر فروخت کرنا یا تعویز بانٹنا نہیں۔ اور نا ہی علم نجوم ان امور پر منحصر ہے۔
 میری رائے میں نجوم کا فن دراصل تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ زائچہ بنانا، زائچہ پڑھنا اور صاحبِ زائچہ کی رہنمائی کرنا۔
  
اول: زائچہ بنانا
 یعنی کسی خاص وقت اور جگہ کے لحاظ سے سیاروں اور دیگر سماوی نقاط (مثلاً طالع و عاشر) کی درست پوزیشن اور باہمی تعلق و نظرات کا حساب لگانا۔ علم نجوم کا یہ پہلا پہلو خالصتاً ریاضیاتی اور سائنسی ہے۔ یہ حسابی کام زائچہ بنانے  کا حصہ ہے۔ زائچہ کیا ہوتا ہے اورکیسے بنتا ہے؟ اس کی تفصیل دوسری تحریر میں پیش کروں گا۔
دوم: زائچہ پڑھنا
سیاروں، ستاروں اور سماوی نقاط کی علامات اور منسوبات کے مطالعے اور ان سے نتائج اخذ کرناعلم نجوم کا دوسراحصہ ہے۔اسے عام زبان میں زائچہ پڑھنا بھی کہتے ہیں۔ زائچہ پڑھنے کے بہت سے طریقے ہیں، بہت سے اصول ہیں، جو زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق احکامات جاننے اورپیش گوئی کے کام آتے ہیں۔ علم نجوم کی بیشتر کتابیں اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی مدد سے تجزیہ اور تشریح کی جاتی ہے اور ممکنہ نتائج پر پہنچا جاتا ہے۔علم نجوم کے مطابق یہ نتائج انسانی زندگی اور ہماری زمین پر اثرانداز ہوتے ہیں۔اگرچہ جدید سائنسدان ، فلکی اثرات کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ اِنھیں کسی تجربہ گاہ میں چانچانہیں جاسکتا ۔ لیکن صدیوں پر محیط اجتماعی انسانی مشاہدہ ان اثرات کی صدیق کرتا ہے۔
سوم: حاملِ زائچہ کی  رہنمائی کرنا
فلکی اثرات سے اخذ کردہ نتائج اور پیش گوئی کو آسان انداز اور مفید مشورے کے طور پر حاملِ زائچہ تک پہنچانا تاکہ وہ منصوبہ بندی اور اہم فیصلے کرسکے۔ ابلاغ کا یہ ہنر اپنے طور پر ایک فن ہے اورساتھ ایک ذمے داری کا کام ہے۔ایک آسٹرولوجر کے سامنے کس عمر،کس پس منظر، کس کلچر اورکس فکر کا سائل موجود ہے؛اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس کی مدد کرنا۔ پھر یہ کہ نجوم کی اصطلاحات اور الفاظ میں الجھے بغیر صاحب زائچہ کو عام فہم انداز میں نتائج سے آگاہ کرنا۔  جیسےایک ماہر ڈاکٹر اپنے مریض کے سامنے مشکل اور دقیق میڈیکل الفاظ استعمال کیے بغیر اسے مشورہ اور دوادیتا ہے۔ علم نجوم کے اس عملی حصہ کو مشورت اور رہنمائی (کاونسلنگ) کہہ سکتے ہیں۔
یعنی علم نجوم کا پہلا حصہ سائنسی ہے جو ہیئت  اورریاضی پر مبنی ہے۔ دوسرا حصہ سیاروں کی منسوبات کے تجزیے اور تشریح کا نام ہے ۔ جبکہ تیسرا حصہ ایک پروفیشنل آسٹرولوجر کی جانب سے دی جانے والی آگاہی ، پیش گوئی اور رہنمائی(پریڈکشن اینڈ کاونسلنگ)ہے۔
نجوم کیا نہیں ہے؟
نجوم — کسی عقیدہ یا مذہب کا نام نہیں۔ اگرچہ مذاہب عالم کی کتابوں میں جا بجا مشاہدہ ٔفلک کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ طلوع وغروب کا بیان ہے۔ چاند تاروں کا ذکر ہے۔ مقدس ایام اور ماہ وسال کےحوالے ہیں۔ اور بہت کچھ ہے ۔لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قران، بائبل، تلمود، رِگ وید، زنداوستھا، دھم پد،گروگرنتھ صاحب یا کسی اور مذہبی صحیفہ کو نجوم کی کتاب قرار دے دیا جائے۔یا یہ ثابت کیا جائے کہ مذہبی کتب بنیادی طور پر نجوم کی تعلیم اور ترغیب کےلیے ہیں۔ مذہبی صحائف انسانی ہدایت کے لیے ہیں۔ میری نظر میں مذہبی کتابوں سے نجوم کی تائید یا تردیدکے حوالے کھوجنے کے بجائے اپنا وقت اور توانائی نجوم سیکھنے پر سرف کرنا بہتر ہے۔ تائید اور تردید کا جوکھم متشکک سائنسدانوں اور مفتیوں پر چھوڑ دیجیے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نجوم کسی مذہب کا نام نہیں، جس پر آنکھ بند کر کے ایمان لایا جائے۔ جہاں کہیں مقدس کتابوں میں مظاہرِ نجوم کے حوالے ہیں، وہ انسانوں کو غوروفکر کی جانب رغبت دلانے  کے لیے ہیں۔ اور جہاں کہیں کاہنوں، جادوگروں، فال گروں، شعبدہ بازوں کے کاموں کو غلط کہا گیا ہے اس کا مقصد عوام الناس کو توہم پرستی اور ضیعف العقادی سےدور رکھنا ہے۔
نجوم—  کسی سائنس کانام نہیں۔ تاہم اس کا ایک حصہ ریاضیاتی سائنس پرضرور مبنی ہے، جیسا کہ اوپر تحریر کیاگیاہے۔ آج بھی کچھ لوگ آسٹرولوجی کو سائنس ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ چند صدیوں پہلے تک علم نجوم(آسٹرولوجی) اور علم ہئیت (آسٹرونومی) میں زیادہ فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن جدید سائنس نے جب اپنے لیے واضح کسوٹی طے کی تو نجوم اور اس جیسے دیگر پیشگوئی کے طریقوں کو غیر سائنسی قرار دے دیا۔ آج کےسائنسدان اور متشکک ، نجوم اور فلکی اثرات کو جعلی علم (سوڈوسائنس) گردانتے ہیں ۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ کہ سائنس اپنے طور پر ‘‘علمِ کل’’نہیں اور نا ہی سائنس کا یہ دعویٰ ہے۔اس لیے سائنس ہر علم کےصحیح و غلط کا پیمانہ نہیں۔ نئے نظریات اور نئی دریافتوں کے ساتھ سائنس اپنے آپ کو خود بدلتی رہتی ہے، اَپ ڈیٹ کرتی رہتی ہے۔
نجوم — کسی ماورائی یا خفیہ علم کا نام نہیں۔ اورنا ہی یہ کوئی تعویز، طلسم، نقش یا جادوٹونا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خفیہ علم کے عاملین، نجوم کے چند عام طریقےاستعمال میں لاتے ہیں۔ عاملین کے صحیح یا غلط طریقۂ استعمال سے نجوم اکثر ہدفِ تنقید بنتا ہے۔ عاملوں کی دکانوں اور اشتہاروں میں اکثر دائرۃ البروج (زوڈیئک سائن) کی تصویریں اورعلامتیں نظر آتیں ہیں ۔ لیکن بیشتر عاملین، نجوم کی الف بے سے واقف نہیں ہوتے۔ بہت ہوا تو حالیہ برس کی جنتری ان کی ٹیبل کی دراز سے نکلے گی۔ جس میں شرف کی لوحیں اور گرہن کے نقوش بنانے کے اوقات تحریر ہوتے ہیں۔ یہی کچھ معاملہ ان لوگوں کا ہے جو پیسے کے عوض استخارہ نکالتے ہیں۔ استخارہ اپنے طور پر ایک جداگانہ معاملہ ہے، اور اسکی روحانی اہمیت مسلّم ہے۔ آن لائن استخارہ ایکسپرٹ کے دعوے داروں کی کرسیوں کے پس منظر میں نجوم کی علامتیں اور بروج کے عکس گمراہ کن کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ استخارے کا آسٹرولوجی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ آسٹرولوجی کے اصول  سیکھنے کے لیے کسی الہامی طاقت یا کشف کی ضرورت نہیں۔
نجوم—  دست شناسی یا پامسٹری نہیں۔ اگرچہ دونوں علوم پیش گوئی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور دونوں جگہ کچھ اصطلاحات ایک جیسی ہیں، اس کے باجود آسٹرولوجی اور پامسٹری علیحدہ علیحدہ علوم ہیں۔ پامسٹری کا میدان کار انسانی ہاتھ ہے، اور نجوم کی بنیاد آسمان پر موجود سیارے اور ستارے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستان میں رائج قدیم فن دست شناسی(ہست سامدرک شاستر)اور ہندی نجوم (جیوتش شاستر) میں لطیف ربط پایا جاتا ہے۔ وہاں چند ایسے ماہر بھی گزرے ہیں جو ہاتھوں کی لکیروں سے زائچہ پیدایش میں موجود سیاروں کی نشست، یوگ، نظرات اور طالع اخذکرسکتے تھے۔ بیسوی صدی میں ایسے ماہرین کو آسٹروپامسٹ کا نام دیا گیا۔ جنوبی ہندوستان میں موجود چند ناڑی مراکز بھی ہاتھ کے انگوٹھے پر موجود نقوش سے جنم لگن کی تصحیح اور تصدیق کرتے ہیں۔ پامسٹری اور آسٹرولوجی کے درمیان اس تعلق کے باوجود دونوں جداگانہ علوم ہیں۔ انھیں آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔
نجوم — علم الاعداد نہیں۔ علم الاعداد یا نمرولوجی اپنے طور پرایک علیحدہ علم ہے، جس کی بنیاد ریاضی کے ہندسے ہیں۔ ہندسوں کے باہمی آہنگ اور تعلق سے کسی کو انکار نہیں۔لیکن نمرولوجی اور آسٹرولوجی دو الگ الگ کشتیوں کے سوار مسافر ہیں۔ علم الاعداد کے لیے فرد کے نام اور انگلش کلینڈر کے مطابق تاریخ پیدایش سے بنیادی اعداد اخذ کیے جاتے ہیں۔  پھر یہ کہ جو نام جس زبان یا تہذیب سے تعلق رکھتا ہو اس کے لیے اسی زبان کی ابجد استعمال کی جاتی ہے۔ کسی ہندویا چینی شخص کے نام کے لیے مسلمانوں میں رائج ابجدِ قمری کام نہ دے گی۔ اسی طرح عربی نام کے لیے لاطینی یا یونانی زبان کی ابجد کا انتخاب کج فہمی ہوگا۔ یعنی علم الاعداد اپنے طور پر آفاقی نہیں۔
نجوم کو علم الاعداد سے گڈ مڈ کردینا حالیہ دور کا بگاڑ ہے۔علم نجوم کی قدیم کتب  علم الاعداد کا تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا (چاہے وہ کتب سنسکرت میں ہوں یا عربی میں، یونانی میں ہوں یا عبرانی میں)۔ موجودہ ماہرینِ علم الاعداد، ریاضی کے ہندسوں کو سیاروں سے منسوب کرتے ہیں،لیکن قدیم زمانے میں یہ رواج نہیں تھا۔ موجودہ  دور میں  زبردستی اس تعلق کو جوڑا جاتا ہے اور ہر برج کےساتھ لکی نمبر کا ٹانکا لگا نظر آتا ہے۔ شمسی برج کی بنیاد پر لکی نمبر کاسطحی مشورہ اکثر صورتوں میں گمراکن ثابت ہوتا ہے۔
نجوم اور یقین کا سوال
علم نجوم کوئی عقیدہ یا مذہب نہیں اس لیے یہاں یقین کا سوال بے جوڑ ہے۔لیکن ہمارے ہاں یہ سوال بہت عام ہے۔آپ نے بہت سے لوگوں کو کہتے سنا ہوگا کہ کیاآسٹرولوجی پر یقین کرنا چاہیے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کیا دنیا کے کسی علم پر یقین کیا جاسکتا ہے۔ایک لمحے کو مختلف دستیاب علوم کے نام ذہن میں لائیے۔ کیا آپ میڈیکل سائنس،انجیئنرنگ سائنس، بائیولوجیکل سائنس، اکنامکس، فنانس ، قانون اورموسمیات پر یقین رکھ سکتے ہیں؟ یقین کا مطلب ہے سوفیصد بھروسہ۔ کیاآپ دنیاوی علوم پر ٪100 بھروسہ کرسکتے ہیں؟ تو پھر کسی ایسے ڈاکٹر کانام بتائیے جس کی ہر تشخیص ٪100 درست ثابت ہوئی ہو؟ اس سرجن کا پتہ بتائیے جس کا ہر آپریشن ٪100 کامیاب ہوا ہو؟اس ماہر معاشیات کا نام بتائیے جس کی ہرپالیسی کا ٪100 نتیجہ نکلاہو؟ اس قانون دان وکیل کا دفتر کہاں ہے جو ہر کیس جیتا ہو؟ وہ ٹیچر کہاں پڑھاتا ہے جس کا ہر اسٹوڈنٹ ٪100 نمبر لے کر پاس ہوا ہو؟ وہ کون سا محکمہ موسمیات ہے جس کی ہر پیش گوئی٪100 درست ثابت ہوئی ہو؟ غرض دنیا کے کسی بھی علم کا کوئی ماہر مطلقیت  کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اور تو اورکوئی ایسی ایجاد یا مشین نہیں جہاں غلطی ممکن نا ہو۔حتیٰ کہ انسان اپنے جسمانی حواس خمسہ  پرسو فیصد یقین نہیں کرسکتا۔ اس لیے علم نجوم اور ماہر نجوم کی بابت ‘‘یقین ’’کا سوال بے معنی ہے۔
 ‘‘کیا آسٹرولوجی پر یقین کرنا چاہیے؟’’ اگریہ پوچھنے کا مقصد نجوم کے نتائج اور پیش گوئیوں کی درستگی اور کامیابی کا تناسب معلوم کرنا ہے تو پھر یہ سوال جائز ہے۔ دنیا کے دیگر علوم و فنون کی طرح آسٹرولوجی کی بھی کچھ حدود ہیں۔ یہ علم بھی تاریخی ارتقا اورجزوی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ اس لیے آسٹرولوجی کے دستیاب اصول و ضوابط کو مطلق اور مکمل نہیں کہا جاسکتا۔ پھر آسٹرولوجر خود ایک انسان ہے اور خطا سے ماورا نہیں۔ آسٹرولوجی کی اپنی حدود اور آسٹرولوجر کی ذاتی غلطیوں کے باوجود یہ علم آپ کی ہر عمر اور ہر جگہ رہنمائی کرسکتا ہے۔ عام طور پر ایک ماہر اور تجربہ کار آسٹرولوجر کی پیش گوئی 70 سے 80 فیصد تک درست ثابت ہوتی ہیں۔ بعض صورتوں میں تو 90فیصد سے زائد۔ تاہم اس حقیقت سے بھی منہ نہیں چھپانا چاہیے کہ چند کیسوں میں اچھے سے اچھے نجومیوں کی پیش گوئیاں بری طرح ناکام ثابت ہوتی ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کا کوئی بھی آسٹرولوجر ہر کیس میں ٪100 نتیجے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حق کا تقاضا ہے کہ آسٹرولوجی کو اس کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کیا جائے۔